حدیث نمبر: 12709
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَا يَزَالُ مُقَارِبًا أَوْ مُوَاتِيًا حَتَّى يَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ، وَالْقَدَرِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ حدیث بیان کرتے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کا معاملہ ہمیشہ قریب قریب یا موافق رہے گا، یہاں تک کہ وہ بچوں (کی تقدیر) اور تقدیر کے بارے میں کلام کرنے لگیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12709
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 162، حدیث 12764