حدیث نمبر: 12609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ عُمَيْرٍ الطَّائِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ كَمَا قَالَ , وَإِلَّا فَإِنِّي أَقُولُ فِيهِ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: ٢٢٣] مَنْ شَاءَ عَزَلَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ "
ترجمہ

زائدہ بن عمیر طائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: عزل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں کچھ فرمایا ہے تو وہی معتبر ہے، ورنہ میں اس بارے میں یہ کہتا ہوں: ”تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی ہیں، تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“ [البقرة: 223]، جو چاہے عزل کرے اور جو چاہے چھوڑ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12609
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 125، حدیث 12663