المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم بن أبي الجعد، عن ابن عباس باب: سالم بن ابی جعد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ التُّرْكِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَائِشَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يُدَاوِي، وَيُعَالِجُ , فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ تَقُولُ أَشْيَاءَ فَهَلْ لَكَ أَنْ أُدَاوِيَكَ؟ قَالَ: فَدَعَاه رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اللهِ عَزِّ وَجَلِّ ثُمَّ قَالَ: «هَلْ لَكَ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟» وَعِنْدَهُ نَخْلٌ وَشَجَرَةٌ، فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَذْقًا مِنْهَا فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَسْجُدُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ، فَقَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْجِعْ إِلَى مَكَانِكَ» ، فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ، قَالَ الْعَامِرِيُّ: وَاللهِ لَا أُكَذِّبُكَ بِقَوْلٍ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: يَا آلَ بَنِي صَعْصَعَةَ وَاللهِ لَا أُكَذِّبُهُ بِشَيْءٍ يَقُولُهُ أَبَدًاسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: … اور وہ علاج کیا کرتا تھا، اس نے کہا: اے محمد! تم کچھ باتیں کہتے ہو، کیا تم چاہو گے کہ میں تمہارا علاج کروں؟ راوی کہتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اللہ عزوجل کی طرف دعوت دی، پھر فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں ایک نشانی دکھاؤں؟“ اور اس کے پاس کھجور کا درخت اور ایک شجر تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک شاخ کو بلایا تو وہ سجدہ کرتی اور اپنا سر اٹھاتی ہوئی آپ ﷺ کی طرف بڑھی، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر آپ ﷺ کے سامنے کھڑی ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنی جگہ واپس چلی جا۔“ چنانچہ وہ اپنی جگہ واپس لوٹ گئی۔ عامری نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہاری کسی بات کو کبھی جھٹلاؤں گا نہیں۔ پھر کہا: اے بنو صعصعہ! اللہ کی قسم! میں اس کی کسی بات کو کبھی جھوٹا نہیں کہوں گا۔