حدیث نمبر: 12448
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلُّويَةَ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِيسَى الْعَطَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا تَوْبَةٌ؟ قَالَ: «لَا» ، قُلْتُ: فَأَيْنَ قَوْلُهُ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ} [الفرقان: ٦٩] ؟ قَالَ: «هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ» {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا، وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ، وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [النساء: ٩٣]
ترجمہ

سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا اس شخص کے لیے جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے، توبہ (کی گنجائش) ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہو گا: ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ، اور نہ زنا کرتے ہیں، اور جو ایسا کرے گا وہ گناہ کی سزا پائے گا، قیامت کے دن اس کا عذاب دوگنا کر دیا جائے گا اور وہ ذلیل ہو کر ہمیشہ اسی میں رہے گا، سوائے اس کے جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا، تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا“ [الفرقان: 69]؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت مکی ہے، اسے ایک مدنی آیت نے منسوخ کر دیا ہے“، (یعنی) ”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضبناک ہوا، اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے“ [النساء: 93]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12448
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 69، حدیث 12501