حدیث نمبر: 12418
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا جَابِرُ بْنُ كُرْدِيٍّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ رَجَعَ إِلَيْهَا، وَكَانَتْ لَيْلَتُهَا , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ , فَقَالَ: «أَنَامَ الْغُلَامُ؟» وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: «اللهُمَّ , اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاعْطِنِي نُورًا»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی تو ان کے ہاں تشریف لائے، اور وہ ان کی باری کی رات تھی۔ آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور فرمایا: ”کیا لڑکا سو گیا؟“ حالانکہ میں سن رہا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی نماز میں فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور رکھ دے، میرے کان میں نور رکھ دے، میری آنکھ میں نور رکھ دے، میری زبان میں نور رکھ دے، اور مجھے نور عطا فرما۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12418
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 60، حدیث 12471