المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12418
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا جَابِرُ بْنُ كُرْدِيٍّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ رَجَعَ إِلَيْهَا، وَكَانَتْ لَيْلَتُهَا , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْفَتَلَ , فَقَالَ: «أَنَامَ الْغُلَامُ؟» وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: «اللهُمَّ , اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَاعْطِنِي نُورًا»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی تو ان کے ہاں تشریف لائے، اور وہ ان کی باری کی رات تھی۔ آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر پلٹے اور فرمایا: ”کیا لڑکا سو گیا؟“ حالانکہ میں سن رہا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی نماز میں فرمایا: ”اے اللہ! میرے دل میں نور رکھ دے، میرے کان میں نور رکھ دے، میری آنکھ میں نور رکھ دے، میری زبان میں نور رکھ دے، اور مجھے نور عطا فرما۔“