المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمُ الشُّهُبُ، فَرَجَعَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ فَقَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، فَقَالُوا: مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ، فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ؟ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَانْصَرَفَ أُولَئِكَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ وَأَصْحَابُهُ بِنَخْلَةَ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَهُوَ «يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ» ، فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا، فَقَالُوا: هَذَا وَاللهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا , إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى نَبِيِّهِ: {قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ} [الجن: ١] وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ سوقِ عکاظ کا رخ کیے ہوئے روانہ ہوئے، اور اس وقت شیاطین کو آسمان کی خبر (سننے) سے روک دیا گیا تھا اور ان پر انگارے بھیجے جا رہے تھے، تو شیاطین اپنی قوم کے پاس واپس لوٹے، تو ان سے پوچھا گیا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: ہمارے اور آسمان کی خبر کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی ہے اور ہم پر انگارے بھیجے جا رہے ہیں۔ ان کی قوم نے کہا: تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان یہ رکاوٹ کسی نئی بات کی وجہ ہی سے پیدا ہوئی ہے، سو تم زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل جاؤ اور دیکھو کہ وہ کیا چیز ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ چنانچہ وہ زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل گئے، اس چیز کی تلاش میں جو ان کے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہوئی تھی۔ تو وہ جن جو تہامہ کی طرف گئے تھے واپس رسول اللہ ﷺ کی طرف آئے، جبکہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نخلہ میں سوقِ عکاظ کی طرف جا رہے تھے، اور آپ ﷺ اپنے صحابہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے۔ جب انہوں نے قرآن سنا تو کان لگا کر سننے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہی ہے جو تمہارے اور آسمان کی خبر کے درمیان حائل ہو گیا ہے۔ پھر جب وہ اپنی قوم کے پاس لوٹے تو کہنے لگے: اے ہماری قوم! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ تو اللہ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی: ”کہہ دیجیے! میری طرف وحی کی گئی ہے“ [سورۃ الجن: 1]، اور آپ ﷺ کی طرف تو صرف جنات کا یہ قول وحی کیا گیا تھا۔