المعجم الكبير للطبراني
باب التاء— حرف تا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
تميم بن أوس الداري ويقال: ابن قيس يكنى أبا رقية وهو عم تميم بن أوس بن خارجة بن سواد بن جذيمة بن دراع بن عدي بن الدار بن لخم بن حبيب بن نمارة بن لخم باب: سیدنا تمیم بن اوس داری رضی اللہ عنہ، اور ابن قیس بھی کہا جاتا ہے، کنیت ابورقیہ، اور وہ تمیم بن اوس بن خارجہ بن سواد بن جذیمہ بن دراع بن عدی بن دار بن لخم بن حبیب بن نمارہ بن لخم کے چچا ہیں
حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرَ فِي الْقَصَصِ، فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَأَبَى أَنْ يَأْذَنَ لَهُ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ» ، يَعْنِي الذَّبْحَترجمہ
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قصے (وعظ) سنانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا، پھر دوبارہ اجازت مانگی تو پھر انکار کر دیا، پھر تیسری بار اجازت مانگی تو انہوں نے کہا: ”اگر تم چاہو“ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، یعنی ذبح کرنے کا اشارہ۔