المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ الْجِنُّ يَصْعَدُونَ إِلَى السَّمَاءِ يَسْتَمِعُونَ الْوَحْيَ، فَإِذَا سَمِعُوا الْكَلِمَةَ زَادُوا فِيهَا تِسْعًا، أَمَّا الْكَلِمَةُ فَتَكُونُ حَقًّا، وَأَمَّا مَا زَادُوا فَيَكُونُ بَاطِلًا فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُنِعُوا مَقَاعِدَهُمْ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِإِبْلِيسَ، وَلَمْ تَكُنِ النُّجُومُ يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ إِبْلِيسُ: هَذَا لِأَمْرٍ قَدْ حَدَثَ فِي الْأَرْضِ، فَبَعَثَ جُنُودَهُ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمًا يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي قَدْ حَدَثَ فِي الْأَرْضِ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جنات آسمان کی طرف چڑھتے اور وحی سنتے تھے، جب وہ کوئی بات سنتے تو اس میں نو باتیں اپنی طرف سے ملا دیتے، وہ اصل بات تو سچی ہوتی مگر جو انہوں نے ملایا وہ جھوٹ ہوتا۔ جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو انہیں ان کی جگہوں سے روک دیا گیا، یہ بات ابلیس سے ذکر کی گئی، اور اس سے پہلے ستارے شیاطین پر نہیں پھینکے جاتے تھے، تو ابلیس نے ان سے کہا: یہ کسی ایسی بات کی وجہ سے ہے جو زمین میں پیش آئی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے لشکر بھیجے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دو پہاڑوں کے درمیان کھڑے نماز پڑھتے پایا، وہ اس کے پاس آئے اور اسے بتایا، تو اس نے کہا: یہی وہ بات ہے جو زمین میں پیش آئی ہے۔“