❮
❯
حدیث نمبر: 12342
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي أَبٍ كَانَ لِلْعَبَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَاءَ قَوْمُهُ، فَقَالُوا: وَاللهِ لَنَلْطِمَنَّهُ، وَحَمَلُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ تَعْلَمُونَ أَكْرَمُ عَلَى اللهِ؟» قَالُوا: أَنْتَ. قَالَ: «فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا، فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا» ، فَجَاءَ الْقَوْمُ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِكَ، اسْتَغْفِرْ لَنَا
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے زمانۂ جاہلیت میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ایک باپ (یعنی آباء و اجداد میں سے کسی) کی شان میں گستاخی کی، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مارا، اس کی قوم آئی اور کہنے لگی: اللہ کی قسم! ہم ضرور اسے (عباس کو) تھپڑ ماریں گے، اور وہ ہتھیار اٹھا لائے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، تو آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم زمین والوں میں سے کسے سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک معزز جانتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: آپ کو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، ہمارے مردوں کو برا مت کہو کہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف پہنچے۔“ چنانچہ وہ لوگ آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، ہمارے لیے بخشش مانگیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12342
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 36، حدیث 12395