المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بصرة بن أبي بصرة الغفاري ويقال له نضرة والصواب بصرة باب: سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں نضرہ بھی کہا جاتا ہے، لیکن صحیح بصرہ ہے
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ التُّوزِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بَصْرَةَ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي خِدْرِهَا، فَوَجَدْتُهَا حُبْلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا الْوَلَدُ فَعَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدُوهَا مِائَةً، وَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا»ترجمہ
سعید بن مسیب سیدنا بصرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک کنواری عورت سے نکاح کیا جو اپنے پردے میں تھی، تو میں نے اسے حاملہ پایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ تو تمہارا غلام ہے، اور جب وہ بچہ جن لے تو اسے سو کوڑے لگاؤ، اور مہر اسی کا حق ہے، اس کے بدلے کہ تم نے (نکاح کے ذریعے) اس سے ازدواجی تعلق کو اپنے لیے حلال کیا۔“