حدیث نمبر: 12255
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَلَيْهَا الظِّلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَيَأْتِيكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ، فَإِذَا جَاءَكُمْ فَلَا تُكَلِّمُوهُ» فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ، فَدَعَاهُ , فَقَالَ: «عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ؟» قَالَ: ادْعُوهُمْ، فَدَعَاهُمْ , فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا، وَمَا فَعَلُوا حَتَّى تَجَاوَزَ عَنْهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ} [المجادلة: ١٨] الْآيَةَ ،
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک حجرے کے سائے میں بیٹھے تھے، سایہ سکڑنے کے قریب تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے پاس عنقریب ایک شخص آئے گا جو تمہیں شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا، جب وہ تمہارے پاس آئے تو اس سے بات مت کرنا۔“ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ایک شخص نمودار ہوا، آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تم اور تمہارے ساتھی مجھے کس بنا پر گالی دیتے ہو؟“ اس نے کہا: انہیں بلا لیجیے۔ آپ ﷺ نے انہیں بلایا تو وہ اللہ کی قسمیں کھانے لگے کہ نہ انہوں نے ایسا کہا اور نہ کیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے انہیں معاف کر دیا۔ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں“ [سورۃ المجادلہ: 18] الآیہ۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12255
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 7، حدیث 12307