المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً ثَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا: مَا اسْمُكِ؟ قَالَتْ: الْخَرُّوبُ، قَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: لخرابِ هَذَا الْبَيْتِ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ: اللهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ، قَالَ: فَنَحَتَها عَصًا يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَتْ فَخَرَّ فَحَزَرُوا أَكْلَهَا الْأَرَضَةَ فَوَجَدُوهُ حَوْلًا، فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ "سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں: ”اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے سامنے ایک اُگا ہوا درخت دیکھتے، تو اس سے پوچھتے: تیرا نام کیا ہے؟ وہ کہتا: خرّوب۔ آپ علیہ السلام پوچھتے: تو کس لیے اُگا ہے؟ وہ کہتا: اس گھر کی ویرانی کے لیے۔ تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اے اللہ! جنات پر میری موت مخفی رکھ، تاکہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے۔“ راوی کہتے ہیں: پھر آپ علیہ السلام نے اس درخت سے ایک لاٹھی تراشی جس پر ٹیک لگاتے تھے، تو دیمک نے اسے کھا لیا اور وہ گر گئی اور آپ علیہ السلام گر پڑے۔ لوگوں نے دیمک کے کھانے کا اندازہ لگایا تو ایک سال پایا۔ تب انسانوں پر واضح ہو گیا کہ جنات اگر غیب جانتے ہوتے تو ایک سال تک اس ذلت آمیز عذاب میں نہ رہتے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے اسی تفسیر کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔
جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا، اور وہ جہاں بھی ہوتی اسے پانی پہنچاتی رہی۔