المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو مَعْنٍ ثَابِتُ بْنُ نُعَيْمٍ الْهوجيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا وَجَدْتُ رَائِحَةً طَيِّبَةً فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ بِنْتِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا فَقُلْتُ: مَا شَأْنُهَا؟ قَالَ: بَيْنَا هِيَ تَمْشُطُ بِنْتَ فِرْعَوْنَ إِذْ سَقَطَ الْمُشْطُ مِنْ يَدِهَا فَقَالَتْ: بِسْمِ اللهِ، فَقَالَتْ بِنْتُ فِرْعَوْنَ: أَبِي فَقَالَتْ: لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّكِ وَرَبُّ أَبِيكِ اللهُ، قَالَتْ: وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرَ أَبِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأُعْلِمُهُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَعْلَمَتْهُ فَدَعَا بِهَا، فَقَالَ: يَا فُلَانَةُ، أَلَكِ رَبٌّ غَيْرِي؟ قَالَتْ: نَعَمْ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ، فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ، ثُمَّ أَخَذَ أَوْلَادُهَا يُلْقُونَ فِيهَا وَاحِدًا وَاحِدًا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ: وَمَا هِيَ؟، قَالَتْ: أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَتَدْفِنَّا جَمِيعًا، قَالَ: وَذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا فَلَمْ يَزَلْ أَوْلَادُهَا يُلْقُونَ فِي الْبَقَرَةِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى ابْنٍ لَهَا رَضِيعٍ فَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجَلِهِ فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّهِ، اقْتَحِمِي، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ، وَشَاهِدُ يُوسُفَ، وَابْنُ مَاشِطَةِ فِرْعَوْنَ. «وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ» .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میں نے ایک خوشبو محسوس کی، تو میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے کہا: یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی عورت اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے۔ میں نے پوچھا: اس کا کیا قصہ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوار رہی تھی کہ اچانک کنگھی اس کے ہاتھ سے گر پڑی، تو اس نے کہا: بسم اللہ۔ فرعون کی بیٹی نے کہا: کیا میرے باپ کا نام لے رہی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ میرا اور تمہارا اور تمہارے باپ کا رب اللہ ہے۔ اس نے کہا: کیا میرے باپ کے سوا تمہارا کوئی اور رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے (فرعون کی بیٹی نے) کہا: تو کیا میں اسے یہ بات بتا دوں؟ اس نے کہا: ہاں، بتا دو۔ چنانچہ اس نے فرعون کو بتا دیا، تو اس نے اسے بلا بھیجا اور کہا: اے فلانی! کیا میرے سوا تمہارا کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔ تو اس نے تانبے کی ایک گائے (نما بھٹی) بنانے کا حکم دیا، اسے خوب گرم کیا گیا، پھر اس کی اولاد کو ایک ایک کر کے اس میں ڈالا جانے لگا۔ اس نے کہا: مجھے تم سے ایک حاجت ہے۔ اس نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ تم میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک ہی کپڑے میں جمع کر کے ہمیں اکٹھا دفن کر دو۔ اس نے کہا: یہ بات ہمارے ذمے تمہارے لیے (منظور) ہے۔ چنانچہ اس کے بچے اسی طرح اس (تانبے کی) گائے میں ڈالے جاتے رہے یہاں تک کہ اس کے ایک دودھ پیتے بچے کی باری آئی، تو وہ گویا اس کی وجہ سے ہچکچائی، اس بچے نے (اللہ کی قدرت سے) اس سے کہا: اے میری ماں! کود پڑو، کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: چار بچوں نے کم عمری میں بات کی: عیسیٰ بن مریم علیہما السلام، جریج کے واقعے کا بچہ، یوسف علیہ السلام کی گواہی دینے والا بچہ، اور فرعون کی ماشطہ (بال سنوارنے والی) کا بیٹا۔ (یہ الفاظ ابوعمر الضریر کی روایت کے ہیں۔)