حدیث نمبر: 12194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُطِيعٍ الْغَزَّالُ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ امْرَأَتِي عَلِيَّ حَرَامًا فَقَالَ: " لَيْسَتْ عَلَيْكَ بِحَرَامٍ ثُمَّ قَرَأَ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] وَلَكِنْ عَلَيْكَ أَغْلَظُ الْكَفَّارَاتِ رَقَبَةً "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ تجھ پر حرام نہیں ہوئی۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ”اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے“ [سورۃ التحریم: 1]، ”البتہ تجھ پر سب سے بھاری کفارہ لازم ہے: ایک غلام آزاد کرنا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12194
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 440، حدیث 12246