حدیث نمبر: 12166
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَلَيْهِ ثَوْبُ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟ َقَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ: «مَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْسًا، وَمَا أَظُنُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ حِينَ نَهَى إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ، وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللهِ كَذَلِكَ» قَالَ: فَمَا هَذِهِ الطُّيُورُ فِي الْكَانُونِ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَلَا يَرَى كَيْفَ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ، فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ: «انْزِعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ أَوِ الصُّوَرِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام شعبہ بیان کرتے ہیں کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جبکہ ان پر ریشمی دیبائی کپڑا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے، اے ابوالعباس؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ استبرق (موٹا ریشمی کپڑا) ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں اس میں کوئی حرج نہیں جانتا، اور میرا خیال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب اس سے منع کیا تھا تو وہ صرف تکبر و غرور کی وجہ سے تھا، اور ہم، اللہ کا شکر ہے، ایسے نہیں ہیں۔“ انہوں نے پوچھا: تو انگیٹھی میں یہ پرندوں کی تصویریں کیسی ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہم نے انہیں آگ سے جلا دیا ہے۔ جب مسور رضی اللہ عنہ چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ کپڑا مجھ سے اتار دو، اور ان مجسموں یا تصویروں کے سر کاٹ دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12166
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 429، حدیث 12218