حدیث نمبر: 12164
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا ابْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «فِيهِمَا قِرَاءَةٌ» فَقَالَُ الرَّجُلُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ؟ فَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَهُ قَرَأْتُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْرَأْ لَمْ أَقْرَأْ. ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَقَالَ لِي: يَا شُعْبَةُ رَدَّهُ فَرَدَدْتُهُ فَقَالَ: وَيْحَكَ لَوْ كَانَ قَرَأَ عَلِمَ ذَلِكَ النَّاسُ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر تھا، ایک شخص نے ان سے ظہر اور عصر کی قراءت کے بارے میں پوچھا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ان دونوں میں قراءت ہے۔“ اس شخص نے پوچھا: کیا یہ نبی کریم ﷺ سے (ثابت) ہے؟ اگر نبی کریم ﷺ نے یہ پڑھا ہے تو میں بھی پڑھوں گا، اور اگر نبی کریم ﷺ نے نہیں پڑھا تو میں نہیں پڑھوں گا۔ پھر وہ شخص چلا گیا اور مجھ سے کہا: اے شعبہ! اسے واپس بلاؤ۔ میں نے اسے واپس بلایا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! اگر آپ ﷺ نے بلند آواز سے پڑھا ہوتا تو لوگوں کو اس کا علم ہو جاتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12164
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 429، حدیث 12216