المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12145
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ حَتَّى انْصَرَفَ فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِرَأْسِي؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس کے بندھے ہوئے بالوں کو کھولنے لگے، اور دوسرا شخص خاموشی سے کھڑا رہا، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو کر اس نے کہا: تمہیں میرے سر سے کیا کام تھا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بال باندھے ہوئے نماز پڑھے اس کی مثال ہاتھ بندھے ہوئے نماز پڑھنے والے جیسی ہے۔“