حدیث نمبر: 12132
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَقَدْتُ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، لَأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ نِصْفُهُ، قَامَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَقَرَأَ " {إِنَّ فِي خَلَقِ السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠] حَتَّى قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ، ثُمَّ صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سویا، جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں، اور نبی کریم ﷺ اس رات ان کے پاس تھے، تاکہ میں دیکھ سکوں کہ نبی کریم ﷺ رات کو کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے باتیں کیں پھر سو گئے۔ جب رات کا آخری تہائی یا نصف حصہ باقی رہ گیا تو آپ ﷺ اٹھے، آسمان کی طرف دیکھا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ [سورۃ آل عمران: 190]، یہاں تک کہ ان آیات کی تلاوت مکمل فرما لی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے، وضو کیا، مسواک کی، پھر گیارہ رکعت نماز پڑھی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کی اذان دی تو آپ ﷺ نے دو رکعت پڑھی، پھر باہر تشریف لے جا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12132
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 416، حدیث 12184