المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12122
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْر بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ مِنْ وَرَائِهِ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، ثُمَّ لَمَّا انْصَرَفَ جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكْ وَلِرَأْسِي قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک شخص کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس کے بندھے ہوئے بالوں کو کھولنے لگے، اور دوسرا شخص خاموشی سے (اسے کھلنے دینے کے لیے) رکا رہا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر پوچھا: تمہیں میرے سر سے کیا کام تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو شخص بالوں کو باندھے ہوئے نماز پڑھے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ہاتھ بندھے ہوئے نماز پڑھے۔“