المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كريب عن ابن عباس باب: کریب کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَأُمُّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ الْجِهَادَ وَأُمُّهُ تَمْنَعُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عِنْدَ أُمِّكَ قَرَّ فَإِنَّ لَكَ مِنَ الْأَجْرِ عِنْدَهَا مِثْلَ مَا لَكَ فِي الْجِهَادِ»
وَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أنْحَرَ نَفْسِي، فَشُغِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَأُمُّهُ فَوُجِدَ يُرِيدُ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مَنْ يُوفِّي بِالنَّذْرِ، وَيَخَافُ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا، هَلْ لَكَ مَالٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اهْدِ مِائَةَ نَاقَةٍ وَاجْعَلْهَا فِي ثَلَاثِ سِنِينَ فَإِنَّكَ لَا تَجِدُ مَنْ يَأْخُذُهَا مِنْكَ مَعًا»
ثُمَّ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي رَسُولُ النِّسَاءِ إِلَيْكَ وَمَا مِنْهُمِ امْرَأَةٌ عَلِمَتْ أَوْ لَمْ تَعْلَمْ إِلَّا وَهِيَ تَهْوَى مَخْرَجِي إِلَيْكَ، اللهُ رَبُّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالَهُهُنَّ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللهِ إِلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ كُتِبَ الْجِهَادُ عَلَى الرِّجَالِ، فَإِنْ أَصَابُوا أَثْرُوا، وَإِنِ اسْتُشْهِدُوا كَانُوا أَحْيَاءً عِنْدَ رَبِّهِمْ فَمَا يَعْدِلُ ذَلِكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ؟ قَالَ: «طَاعَةُ أَزْوَاجِهِنَّ وَالْمَعْرِفَةُ بِحُقُوقِهِمْ وَقَلِيلٌ مِنْكُنَّ تَفْعَلُهُ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی ماں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، وہ جہاد کرنا چاہتا تھا مگر اس کی ماں اسے روک رہی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے پاس ٹھہرے رہو، کیونکہ اس کے پاس رہنے میں تمہارے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا جہاد میں ہے۔“
پھر ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا: میں نے نذر مانی تھی کہ میں اپنی جان کی قربانی دوں گا۔ نبی کریم ﷺ کسی کام میں مصروف ہو گئے، تو وہ شخص اور اس کی ماں چلے گئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی ہر طرف پھیل جانے والی ہے۔ کیا تمہارے پاس مال ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سو اونٹ قربانی کے لیے دو، اور انہیں تین سال میں تقسیم کر دو، کیونکہ تمہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو انہیں ایک ساتھ تم سے لے لے۔“
پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی: میں عورتوں کی طرف سے آپ کے پاس بھیجی گئی ہوں، اور ان میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جسے علم ہو یا نہ ہو مگر وہ میرے اس مقصد کے لیے نکلنے کو پسند کرتی ہے۔ اللہ ہی مردوں اور عورتوں کا رب اور معبود ہے، اور آپ اللہ کے رسول ہیں مردوں اور عورتوں دونوں کی طرف۔ مردوں پر جہاد فرض کیا گیا ہے، اگر وہ مال غنیمت پائیں تو مالدار ہو جاتے ہیں، اور اگر شہید ہو جائیں تو اپنے رب کے پاس زندہ ہوتے ہیں۔ تو ان کے اعمال کے برابر عورتوں کے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے شوہروں کی اطاعت اور ان کے حقوق پہچاننا، اور تم میں سے کم ہی عورتیں ایسا کرتی ہیں۔“