المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشر بن عاصم باب: سیدنا بشر بن عاصم رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ، اسْتَعْمَلَ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ عَلَى صَدَقَاتِ هَوَازِنَ فَتَخَلَّفَ بِشْرٌ فَلَقِيَهُ عُمَرُ فَقَالَ: مَا خَلَّفَكَ أَمَا لَنَا عَلَيْكَ سَمْعٌ وَطَاعَةٌ؟، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا تَجَاوَزَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»
قَالَ: فَخَرَجَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ، كَئِيبًا حَزِينًا فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ: مَالِي أَرَاكَ كَئِيبًا حَزِينًا؟ قَالَ: مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَكُونَ كَئِيبًا حَزِينًا، وَقَدْ سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا تَجَاوَزَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا» ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَمَا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلِيَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يُوقَفَ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا تَجَاوَزَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا انْخَرَقَ بِهِ الْجِسْرُ، فَهَوَى فِيهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا، وَهِي سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ» فَأَيُّ الْحَدِيثَيْنِ أَوَجَعُ لِقَلْبِكَ؟ قَالَ: كِلَاهُمَا قَدْ أَوَجَعَ قَلْبِي فَمَنْ يَأْخُذُهَا بِمَا فِيهَا، وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: «مَنْ سَلَتَ اللهُ أَنْفَهُ، وَأَلْصَقَ خَدَّهُ بِالْأَرْضِ، أَمَا إِنَّا لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَعَسَى إِنْ وَلَّيتَهَا مَنْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا أَنْ لَا تَنْجُوَ مِنْ إِثْمِها»سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا بشر بن عاصم رضی اللہ عنہ کو ہوازن کے صدقات پر عامل مقرر کیا، تو بشر رضی اللہ عنہ نے جانے میں تاخیر کی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور کہا: تمہیں کس چیز نے روکا، کیا ہمیں تم پر سننے اور ماننے کا حق نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جو کوئی مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم کے پل پر روکا جائے گا، اگر وہ نیکوکار ہوا تو گزر جائے گا، اور اگر بدکار ہوا تو پل اس کے ساتھ پھٹ جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا چلا جائے گا“
(راوی) کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غمگین اور پریشان حال ہو کر نکلے، تو ان سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں آپ کو غمگین اور پریشان دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: مجھے غمگین اور پریشان ہونے سے کون سی چیز روک سکتی ہے، جبکہ میں نے بشر بن عاصم کو یہ کہتے سنا ہے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو کوئی مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے، اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم کے پل پر روکا جائے گا، اگر وہ نیکوکار ہوا تو گزر جائے گا، اور اگر بدکار ہوا تو پل اس کے ساتھ پھٹ جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا چلا جائے گا“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے خود سنا؟ انہوں نے کہا: نہیں، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو کوئی لوگوں میں سے کسی کا ذمہ دار بنے، اسے قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ اسے جہنم کے پل پر روکا جائے گا، اگر وہ نیکوکار ہوا تو گزر جائے گا، اور اگر بدکار ہوا تو پل اس کے ساتھ پھٹ جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا چلا جائے گا، اور وہ تاریک اور اندھیری ہے“ تو ان دونوں حدیثوں میں سے کون سی تمہارے دل کے لیے زیادہ تکلیف دہ ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: دونوں نے ہی میرے دل کو تکلیف دی ہے، تو کون ہے جو اسے اس کے بوجھ سمیت لے؟ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کی ناک اللہ رگڑ دے اور اس کا رخسار زمین سے لگا دے، ہم تو اس کے بارے میں سوائے بھلائی کے کچھ نہیں جانتے، لیکن اگر تم نے اسے ایسے شخص کے حوالے کیا جو اس میں انصاف نہ کرے تو وہ اس کے گناہ سے نہیں بچ سکے گا۔“