المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: احْتَفَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَنْدَقَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ شُدُّوا الْحِجَارَةَ عَلَى بُطُونِهِمْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ دُلِلْتُمْ عَلَى رَجُلٍ يُطْعِمُنَا أَكَلَةً؟» قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا لَا فَتَقَدَّمْ فَدُلَّنَا عَلَيْهِ» فَانْطَلَقُوا إِلَى الرَّجُلِ فَإِذَا فِي الْخَنْدَقِ يُعَالِجُ نَصِيبَهُ مِنْهُ، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ جئْ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانَا، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَسْعَى، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي وَلَهُ مَعْزَةٌ وَمَعَهَا جَدْيُها، فَوَثَبَ إِلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَدْيُ مِنْ وَرَائِنَا» فَذَبَحَ الْجَدْيَ، وعَمَدَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى طَحِينَةٍ لَهَا فَعَجَنَتْها وَخَبَزَتْ فَأَدْرَكَتِ الْقِدْرَ فَثَرَدَتْ قَصْعَتَهَا، فَقَرَّبَتْها إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ فِيهَا، فَقَالَ:: «بِسْمِ اللهِ اللهُمَّ بَارِكْ فِيهَا اطْعَمُوا» فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى صَدَرُوا وَلَمْ يَأْكُلُوا مِنْهَا إِلَّا ثُلُثَهَا وَبَقِي ثُلُثَاهَا، فَسَرَّحَ أُولَئِكَ الْعَشَرَةَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنِ اذْهَبُوا وسَرِّحُوا إِلَيْنَا بِعِدَّتِكُمْ فَذَهَبُوا وَجَاءَ أُولَئِكَ الْعَشَرَةُ مَكَانَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ قَامَ وَدَعَا لِرَبَّةِ الْبَيْتِ وَسَمَّتَ عَلَيْهَا وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهَا، ثُمَّ تَمَشَّوْا إِلَى الْخَنْدَقِ فَقَالَ: اذْهَبُوا بِنَا إِلَى سَلْمَانَ فَإِذَا صَخْرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَدْ ضَعُفَ عَنْهَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «دَعُونِي فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَهَا» فَقَالَ: «بِسْمِ اللهِ» فَضَرَبَهَا فَوَقَعَتْ فِلْقَةٌ ثُلُثُهَا فَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ قُصُورُ الرُّومِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» ثُمَّ ضَرَبَ بِأُخْرَى فَوَقَعَتْ فِلْقَةٌ فَقَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ قُصُورُ فَارِسَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَقَالَ عِنْدَهَا الْمُنَافِقُونَ: نَحْنُ نُخَنْدِقُ عَلَى أَنْفُسِنَا وَهُوَ يَعِدُنا قُصُورَ فَارِسٍ وَالرُّومِ…رسول اللہ ﷺ نے خندق کھودی، اور آپ ﷺ کے صحابہ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ رکھے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھا تو فرمایا: ”کیا تمہیں کسی ایسے آدمی کا پتہ ہے جو ہمیں ایک وقت کا کھانا کھلا دے؟“ ایک آدمی نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا تو آگے بڑھو اور ہمیں اس کی طرف رہنمائی کرو۔“ چنانچہ وہ اس آدمی کے پاس گئے تو وہ خندق میں اپنا حصہ کھود رہا تھا۔ اس کی بیوی نے پیغام بھیجا کہ آ جاؤ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہیں۔ وہ آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں - اور اس کے پاس ایک بکری تھی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ اس کی طرف لپکا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ رہنے دو۔“ چنانچہ اس نے بڑی بکری ذبح کی، اور عورت نے اپنا آٹا لیا، اسے گوندھا اور روٹی پکائی، اور ہانڈی تیار ہو گئی تو اس نے اپنی طشتری میں روٹی چوری کر کے شوربہ ڈالا، اور اسے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے قریب لے آئی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی انگلی اس میں ڈالی اور فرمایا: ”بسم اللہ، اے اللہ! اس میں برکت ڈال، کھاؤ۔“ چنانچہ وہ سب اس میں سے کھاتے رہے یہاں تک کہ سیر ہو گئے، اور انہوں نے اس میں سے صرف ایک تہائی کھایا، دو تہائی باقی رہ گیا۔ تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھ موجود ان دس آدمیوں کو بھیج دیا کہ جاؤ اور اپنی تعداد کے برابر مزید لوگ ہمارے پاس بھیج دو، چنانچہ وہ چلے گئے اور ان کی جگہ دوسرے دس آدمی آئے اور اس میں سے کھا کر سیر ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور گھر والی کے لیے دعا کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو سلام کہا۔ پھر وہ سب خندق کی طرف چل پڑے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں سلمان کے پاس لے چلو۔“ وہاں ایک چٹان تھی جسے توڑنے میں وہ ناکام ہو رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”مجھے چھوڑ دو، میں پہلا شخص بنوں جو اسے ضرب لگائے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ”بسم اللہ“ کہہ کر اسے ضرب لگائی تو اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اکبر! کعبہ کے رب کی قسم، روم کے محلات!“ پھر دوسری ضرب لگائی تو ایک اور ٹکڑا گرا، تو فرمایا: ”اللہ اکبر! کعبہ کے رب کی قسم، فارس کے محلات!“ اس پر منافقین کہنے لگے: ہم تو خوف کے مارے اپنے گرد خندق کھود رہے ہیں، اور یہ ہمیں فارس اور روم کے محلات کا وعدہ دے رہے ہیں!