حدیث نمبر: 11993
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ كَاهِنًا يَقْضِي بَيْنَ الْيَهُودِ فِيمَا يَتَنَافَرُونَ إِلَيْهِ، فتنافرَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطاغوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ} [النساء: ٦٠] ، إِلَى قَوْلِهِ، {إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا} [النساء: ٦٢] "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن تھا جو یہود کے درمیان ان کے تنازعات میں فیصلہ کرتا تھا جو وہ اس کے پاس لے کر آتے تھے، تو مسلمانوں میں سے کچھ لوگ بھی اپنے تنازعات لے کر اس کے پاس گئے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ پر نازل ہوا اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا، پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت کے پاس فیصلہ کرائیں، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اس کا انکار کریں“ [سورۃ النساء: 60] سے لے کر ”ہم نے تو صرف بھلائی اور موافقت کا ارادہ کیا تھا“ [سورۃ النساء: 62] تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11993
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 373، حدیث 12045