المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ {يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا} [المزمل: ١٧] قَالَ: " ذَلِكَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ يَقُولُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ لِآدَمَ: قُمْ فَابْعَثْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ فَقَالَ: مِنْ كَمْ يَا رَبِّ؟ قَالَ: مَنْ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعِينَ، وَيَنْجُو وَاحِدٌ "، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَعَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَبْصَرَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ: «إِنَّ بَنِي آدَمَ كَثِيرٌ، وَإِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ، وَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى يَرِثَهُ لِصُلْبِهِ أَلْفُ رَجُلٍ وَفِيهِمْ وَفِي أشباهِهِمْ جُنَّةٌ لَكُمْ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا“ [سورۃ المزمل: 17]، اور فرمایا: ”یہ قیامت کا دن ہے، اور یہ وہ دن ہے جب اللہ جل ذکرہ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: کھڑے ہو جاؤ اور اپنی اولاد میں سے جہنم کی طرف ایک لشکر بھیجو۔ وہ عرض کریں گے: کتنے، اے میرے رب؟ اللہ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اور ایک شخص نجات پائے گا۔“ یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بات جان لی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے چہروں پر یہ تاثر دیکھا تو فرمایا: ”بنی آدم بہت زیادہ ہیں، اور یاجوج ماجوج بھی آدم کی اولاد میں سے ہیں، اور ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا مگر اس کی پشت سے ایک ہزار آدمی اس کے وارث بنتے ہیں، اور ان میں اور ان جیسوں میں تمہارے لیے ایک ڈھال ہے۔“