المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11975
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَهُمَا صَائِمَتَانِ، ثُمَّ خَرَجَ فَرَجَعَ وَهُمَا تَأْكُلانِ فَقَالَ: «أَلَمْ تَكُونَا صَائِمَتَيْنِ؟» قَالَتَا: بَلَى، وَلَكِنْ أُهْدِيَ لَنَا هَذَا الطَّعَامُ فَأَعْجَبَنا فَأَكَلْنَا مِنْهُ قَالَ: «صُومُوا يَوْمًا مَكَانَهُ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ دونوں روزے سے تھیں، پھر باہر تشریف لے گئے اور واپس آئے تو دیکھا کہ وہ دونوں کچھ کھا رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم دونوں روزے سے نہ تھیں؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن ہمیں یہ کھانا تحفے میں ملا اور ہمیں پسند آیا تو ہم نے اس میں سے کھا لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھ لو۔“