حدیث نمبر: 11848
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا، ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا قَالَ: «مَا لِي وَلِلدُّنْيَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي، وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ سَارَ وَتَرْكَهَا»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ ایک چٹائی پر تھے جس نے آپ ﷺ کے پہلو پر نشان ڈال دیے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اس سے زیادہ نرم بستر بنا لیتے (تو بہتر ہوتا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا دنیا سے کیا تعلق؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری اور دنیا کی مثال تو بس اس سوار جیسی ہے جو گرمی کے دن سفر کر رہا ہو، پھر دن کی ایک گھڑی کسی درخت کے سائے میں ٹھہرے، پھر آگے چل پڑے اور اسے چھوڑ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11848
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 327، حدیث 11898