حدیث نمبر: 11820
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «لَا حَرَجَ» فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ فِي التَّقْدِيمِ، وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: «لَا حَرَجَ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ سے سوال کیا گیا تو ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے کنکری مارنے سے پہلے قربانی کر دی۔ آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ اس دن آگے پیچھے کرنے کے بارے میں جو بھی سوال کیا گیا، آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کر کے یہی فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11820
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 320، حدیث 11870