المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11736
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَازِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَمَارَى النَّاسُ فِي الْهِلَالِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَشَهِدَ أَنَّهُ رَآهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَنَادَى: «إِنَّ الصَّوْمَ غَدًا»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے دور میں لوگوں نے چاند کے بارے میں اختلاف کیا، تو ایک دیہاتی آیا اور گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے، نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اعلان کیا: ”کل روزہ ہے۔“