المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ التَّمَّارِ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدَّجَّالُ جَعْدٌ هِجَانٌ أَقْمَرُ، كَأَنَّ رَأْسَهُ غُصْنُ شَجَرَةٍ، مَطْمُوسُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى وَالْأُخْرَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ، فَأَمَّا هَلَكُ الْهُلَّكِ فَإِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دجال گھنگریالے بالوں والا، سرخی مائل سفید، چاند جیسے چہرے والا ہوگا، گویا اس کا سر درخت کی شاخ ہے، اس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی اور دوسری ایسی ہوگی جیسے ابھری ہوئی انگور کی گٹھلی، لوگوں میں عبدالعزیٰ بن قطن سے سب سے زیادہ مشابہ ہوگا، رہی ہلاک ہونے والوں کی ہلاکت تو وہ اس لیے کہ وہ کانا ہوگا، جبکہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔“