المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى غُفْرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ اللهُ بِهِ؟» قُلْتُ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، إِذَا سَأَلْتَ فَسَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ، فَقَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَوْ جَهَدَ الْخَلَائِقُ أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى ذَلِكَ، وَلَوْ جَهَدَ الْخَلَائِقُ أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى ذَلِكَ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لڑکے! کیا میں تجھے کچھ ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن سے اللہ تجھے نفع دے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی (حدود کی) حفاظت کر، وہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کی حفاظت کر، تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔ خوشحالی میں اللہ کو پہچان، وہ تنگی میں تجھے پہچانے گا۔ جب مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگ، اور جب مدد چاہنی ہو تو اللہ ہی سے مدد مانگ، بے شک قلم خشک ہو چکا ہے اس چیز کے ساتھ جو قیامت تک ہونے والی ہے۔ اگر ساری مخلوق اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی ایسا نفع پہنچائیں جو اللہ نے تیرے لیے نہیں لکھا تو وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتے، اور اگر ساری مخلوق اس بات پر جمع ہو جائے کہ تجھے کوئی ایسا نقصان پہنچائیں جو اللہ نے تجھ پر نہیں لکھا تو وہ بھی اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔“