المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بريدة بن الحصيب الأسلمي يكنى أبا عبد الله باب: سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ
حدیث نمبر: 1143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ قَاضِيَانِ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ فِي الْجَنَّةِ، قَاضٍ قَضَى بِغَيْرِ حَقٍّ وَهُوَ يَعْلَمُ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ قَضَى، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ، فَأَهْلَكَ حُقُوقَ النَّاسِ، فَذَلِكَ فِي النَّارِ، وَقَاضٍ قَضَى بِالْحَقِّ، فَذَاكَ فِي الْجَنَّةِ»ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی تین قسم کے ہیں، دو جہنم میں اور ایک جنت میں، ایک وہ قاضی جس نے جان بوجھ کر ناحق فیصلہ کیا، وہ جہنم میں ہے، اور ایک وہ قاضی جس نے بغیر علم کے فیصلہ کیا اور لوگوں کے حقوق ضائع کر دیے، وہ بھی جہنم میں ہے، اور ایک وہ قاضی جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا، وہ جنت میں ہے۔“