حدیث نمبر: 11429
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَانِئٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا هَانِئُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمِّهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْتَخْيِرُكَ بِعِلْمِكِ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلِيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ إِلَى خَيْرٍ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں استخارہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورت سکھاتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں، کیونکہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ! جو فیصلہ تو نے میرے بارے میں کیا ہے اس کا انجام بہتر کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11429
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 196، حدیث 11477