حدیث نمبر: 11402
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ الْجِيزِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَا تَقُولُ فِيَّ؟ قَالَ: وَمَا عَسَى أَنْ أَقُولَ فِيكَ؟ قَالَ: إِنِّي عَامَلٌ بقلمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يُؤْتَى بِصَاحِبِ الْقَلَمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي تابوتٍ مِنْ نَارٍ مُقْفَلٍ عَلَيْهِ بِأَقْفَالٍ مِنْ نَارٍ فَيَنْظُرُ قَلَمَهُ فِيمَ أَجْرَاهُ، فَإِنْ كَانَ أَجْرَاهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَرِضْوَانِهِ فُكَّ عَنْهُ التَّابُوتُ، وَإِنْ أَجْرَاهُ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ هَوَى بِهِ التَّابُوتُ سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى بارئُ الْقَلَمِ ولائقُ الدَّوَاةِ»
ترجمہ

… راوی کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: اے ابو عباس! آپ میرے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں تمہارے بارے میں کیا کہوں؟ اس نے کہا: میں قلم سے کام کرنے والا (سرکاری کاتب) ہوں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن قلم والے کو آگ کے ایک تابوت میں لایا جائے گا جس پر آگ کے تالے لگے ہوں گے، وہ اپنے قلم کو دیکھے گا کہ اس نے اسے کس کام میں چلایا، اگر اس نے اسے اللہ کی اطاعت اور رضا میں چلایا ہو تو اس سے تابوت کھول دیا جائے گا، اور اگر اس نے اسے اللہ کی نافرمانی میں چلایا ہو تو وہ تابوت اسے لیے ہوئے ستر برسوں تک گرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ قلم بنانے والے اور دوات میں سیاہی ملانے والے تک جا پہنچے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 188، حدیث 11450