❮
❯
حدیث نمبر: 11307
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيِ النَّاسِ، وَقَدْ تَعَلَّقُوا الْقِسِيَّ، وَالْجِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ لَقَدْ رُئي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَأَنَّ ذِفْرَى نَاقَتِهِ لَتَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ»
ترجمہ

عطاء رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: تیز چلنے (ایضاع) کی ابتدا دیہاتیوں کی طرف سے ہوئی، وہ لوگوں کے کناروں پر کھڑے ہوتے، اور انہوں نے کمانیں اور ترکش لٹکائے ہوئے تھے، جب وہ تیزی سے چلتے تو ان کی آواز آتی، رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ گویا آپ ﷺ کی اونٹنی کے کان کے پیچھے کی ہڈی اس کے شانوں کے اوپری حصے کو چھو رہی تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! سکون سے چلو، اے لوگو! سکون سے چلو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11307
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 158، حدیث 11355