حدیث نمبر: 11300
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَسَّابٍ، قَالَا: ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الضَّالُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الِاسْتِلَامِ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّمَا أُمِرْتُمْ أَنْ تَطُوفُوا، فَإِنْ تَيَسَّرَ فَاسْتَلِمُوا» الضَّالُّ كَانَ ضَلَّ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَمَاتَ مفقودًا قَالَ: وَكَانَ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَسَلْمُ بْنُ أَبِي الذَّيَّالِ فُقِدا، فَلَمْ يُرَ لَهُمَا أَثَرٌ
ترجمہ

عطاء رحمہ اللہ سے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تمہیں صرف طواف کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اگر آسانی سے ممکن ہو تو حجرِ اسود کو بوسہ دے لو۔“
(روای) کا لقب ”الضال“ اس لیے تھا کہ وہ مکہ کے راستے میں گم ہو گئے تھے اور لاپتہ ہی وفات پا گئے۔ امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور معمر بن راشد اور سلم بن ابی الذیال بھی گم ہو گئے تھے، ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11300
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 156، حدیث 11348