المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بلال بن الحارث المزني، يكنى أبا عبد الرحمن باب: سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبدالرحمن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ، أَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا كَانَ يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ» ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «أَسْقَطَ مَالِكٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ مِنَ الْإِسْنَادِ، عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ، جَدَّ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَخَالَفَ النَّاسَ فِيهِ»سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے لیے اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا، اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے لیے اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا، اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مالک اور محمد بن عجلان نے سند میں سے محمد بن عمرو کے دادا علقمہ بن وقاص کو ساقط کر دیا ہے، اور حماد بن سلمہ نے اسے روایت کیا تو اس میں لوگوں کی مخالفت کی۔