حدیث نمبر: 1124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ فُسْتُقَةُ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَمَّالُ، قَالَ: «بِلَالُ بْنُ الْحَارِثِ يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ»
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ لَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ لَا يَرَى أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ»
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، يَكْتُبُ اللهُ لَهُ رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ عَلَيْهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ وَمَا يَرَى أَنَّهَا بَلَغَتْ مَا بَلَغَتْ فَيَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضَاهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ فَمَا يَرَى أَنَّهَا تَبْلُغُ مَا تَبْلُغُ فَيَكْتُبُ اللهُ عَلَيْهِ بِهَا سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يلقاه»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ يَكْتُبُ اللهُ عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ يَلْقَاهُ»
ترجمہ

ہارون بن عبداللہ حمال بیان کرتے ہیں: ”بلال بن حارث کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی۔“

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے، اس کے گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے سبب اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے سبب اس کے لیے اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا، اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس پر اس کے سبب قیامت کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے اور اسے یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچی، تو اللہ اس کے سبب اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور آدمی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے اور اسے یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچی، تو اللہ اس پر اس کے سبب اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا، اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی اللہ کی رضا کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کے لیے اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی کی ایک بات کہتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس پر اس دن تک جب وہ اس سے ملے گا اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 367، حدیث 1128