حدیث نمبر: 11197
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَى بْنُ مَهْدِيٌّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ، احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ بِاللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْخَلَائِقَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يُعْطُوكَ شَيْئًا لَمْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يُعْطِيَكَ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ أَوْ يَصْرِفُوا عَنْكَ شَيْئًا أَرَادَ أَنْ يُصِيبَكَ بِهِ لَمْ يَقْدِرُوا عَلَى ذَلِكَ، فَإِذَا سَأَلْتَ فَسَلِ اللهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا، وَاعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے بچے! اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت کرے گا۔ اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ خوش حالی میں اللہ کو پہچانو، وہ تکلیف میں تمہیں پہچانے گا۔ اور جان لو کہ جو تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہ تھا۔ اور جان لو کہ اگر ساری مخلوق اس بات پر جمع ہو جائے کہ تمہیں کوئی ایسی چیز دیں جو اللہ نے تمہیں دینا نہ چاہی ہو، تو وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتے، یا تم سے کوئی ایسی چیز پھیر دیں جو اللہ نے تمہیں پہنچانے کا ارادہ کیا ہو، تو وہ اس پر بھی قادر نہیں ہو سکتے۔ پس جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو، اور جان لو کہ مدد صبر کے ساتھ ہے، اور کشادگی تنگی کے بعد ہے، اور بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، اور جان لو کہ قلم ان تمام باتوں کے ساتھ چل چکا ہے جو ہونے والی ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11197
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 123، حدیث 11243