حدیث نمبر: 11180
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ عِنْدَ سَوْدَةَ مِنَ الْعَسَلِ، فَيَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا، فَقَالَ: «إِنِّي أُرَاهُ مِنْ شَرَابٍ شَرِبْتُهُ عِنْدَ سَوْدَةَ وَاللهِ لَا أَشْرَبُهُ» فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] "
ترجمہ

...رسول اللہ ﷺ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پیا کرتے تھے، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تو وہ عرض کرتیں: مجھے آپ سے ایک بو محسوس ہوتی ہے۔ پھر حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے تو وہ بھی عرض کرتیں: مجھے آپ سے ایک بو محسوس ہوتی ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے یہ اس مشروب کی وجہ سے ہے جو میں نے سودہ کے پاس پیا، اللہ کی قسم! اب میں اسے نہیں پیوں گا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں وہ چیز جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے“ [التحریم: 1]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11180
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 117، حدیث 11226