المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن دينار، عن ابن عباس باب: عمرو بن دینار کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11174
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ثنا جَامِعُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا وَلِي أَحَدٌ وِلَايَةً إِلَّا بُسِطَتْ لَهُ الْعَافِيَةُ، فَإِنْ قَبِلَهَا تَمَّتْ لَهُ، وَإِنْ خَفَرَ عَنْهَا فُتِحَ لَهُ مَا لَا طَاقَةَ لَهُ بِهِ» . قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا خَفَرَ عَنْهَا؟ قَالَ: يَطْلُبُ الْعَثَراتِ وَالْعَوْرَاتِترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی کسی ذمہ داری کا والی بنا، اس کے لیے عافیت پھیلا دی جاتی ہے، اگر اس نے اسے قبول کیا تو وہ اس کے لیے مکمل ہو جاتی ہے، اور اگر وہ اس سے پیچھے ہٹا تو اس پر ایسے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جن کی اسے طاقت نہیں ہوتی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: 'خَفَرَ عنہا' کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ لغزشیں اور پردہ پوشی کی جانے والی باتیں تلاش کرے۔“