المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن دينار، عن ابن عباس باب: عمرو بن دینار کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11151
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبَّاسٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ مُحْتَسِبًا حَتَّى يَقْتُلَ أَفِي الْجَنَّةِ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ» فَلَمَّا قَفا دَعَاهُ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی اللہ کی راہ میں ثواب کی نیت سے لڑتا ہے یہاں تک کہ مارا جاتا ہے، کیا وہ جنت میں جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: بشرطیکہ اس پر قرض نہ ہو۔“