المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عباس باب: مجاہد کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ النَّرْسِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمُقَدَّمِيُّ الزوزنيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْيَزيديُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: ١٦١] «وَكَيْفَ لَا يَكُونُ لَهُ أَنْ يَغُلَّ وَلَهُ أَنْ يُقْتَلَ» ، قَالَ اللهُ: {وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ} [آل عمران: ١١٢] «وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ اتَّهَمُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ} [آل عمران: ١٦١] "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ آیت اس قرأت کے ساتھ پڑھا کرتے تھے: ”کسی نبی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خیانت کرے“ [آلِ عمران: 161]، فرماتے: ”اور یہ کیسے ممکن نہیں کہ (نبی کے ساتھ) خیانت کی جائے جبکہ اسے قتل تک کیا جا سکتا ہے؟“ (یعنی آیت کا مطلب یہ نہیں کہ نبی کے ساتھ خیانت نہیں ہو سکتی) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اور وہ انبیاء کو قتل کرتے ہیں“ [آلِ عمران: 112]۔ لیکن منافقین نے نبی کریم ﷺ پر کسی چیز میں الزام لگایا تھا، تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”کسی نبی کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خیانت کرے“ [آلِ عمران: 161]۔