حدیث نمبر: 11088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ} [النساء: ١٥] إِلَى قَوْلِهِ: {حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ} [النساء: ١٥] قَالَ: «كُنَّ يُحْبَسْنَ فِي الْبُيُوتِ فَإِنْ مَاتَتْ مَاتَتْ، وَإِنْ عَاشَتْ عَاشَتْ» ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ} وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْحُدُودِ، فَمَنْ عَمِلَ شَيْئًا جُلِدَ وَأُرْسِلَ "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے فرمان ”اور تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا ارتکاب کریں“ [النساء: 15] سے ”یہاں تک کہ انہیں موت آ جائے“ [النساء: 15] تک کے بارے میں فرماتے ہیں: ”انہیں گھروں میں بند رکھا جاتا تھا، اگر وہ مر جاتی تو مر جاتی، اور اگر زندہ رہتی تو زندہ رہتی۔“ یہاں تک کہ سورۃ النور کی یہ آیت نازل ہوئی: ”زانیہ اور زانی، ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو“، اور سورۃ الحدود (حدود کے احکام والی آیات) نازل ہوئیں، تو جس نے کوئی فعل کیا اسے کوڑے مار کر چھوڑ دیا جاتا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 87، حدیث 11134