حدیث نمبر: 11071
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا وَأَمَرَهُمْ فَجَعَلُوهَا عَمْرَةً، ثُمَّ قَالَ: «لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلُوا، وَلَكِنْ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» ، ثُمَّ أَنْشَبَ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ، فَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِمَ أَهْلَلْتَ؟» قَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهْلَلْتَ بِهِ قَالَ: «فَهَلْ مَعَكَ هَدْيٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَقِمْ كَمَا أَنْتَ وَلَكَ ثُلُثُ هَدْيِي» وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى مِائَةَ بَدَنَةٍ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا لیں، پھر فرمایا: ”اگر میں پہلے یہ بات جان لیتا جو بعد میں جانی، تو میں بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا، لیکن عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں، تو لوگوں نے احرام کھول دیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہَدی تھی۔ اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تم نے کس نیت سے احرام باندھا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے وہی نیت کی جو آپ نے کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ ہَدی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جیسے ہو ویسے ہی ٹھہرے رہو، اور میری ہَدی میں سے ایک تہائی تمہارے لیے ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے سو اونٹ ہَدی کے طور پر بھیجے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11071
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 83، حدیث 11117