المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مسروق بن الأجدع، عن بلال باب: مسروق بن اجدع کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَاشْتَرَيْتُهُ وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَخَذْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ، فَقَالَ: «رُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا»ترجمہ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ ﷺ کے لیے کھجور تھی، تو مجھے اس سے بہتر کھجور ایک صاع کے بدلے دو صاع میں ملی، تو میں نے وہ خرید لی اور نبی کریم ﷺ کے پاس لے آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے ایک صاع کے بدلے دو صاع لیے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہماری کھجور ہمیں واپس کر دو۔“