المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن الحارث عن ابن عباس باب: عبدالرحمن بن حارث کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10778
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سَابِقٌ الْجَزَرِيُّ، أَنَّ عَمْرَوَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ شُبُهَاتٌ، فَمَنْ أَوْقَعَ بِهِنَّ فَهُوَ قَمِنٌ أَنْ يَأْثَمَ، وَمَنِ اجْتَنَبَهُنَّ فَهُوَ أَوْفَرُ لِدِينِهِ كَمُرْتِعٍ إِلَى جَنْبِ حِمًى أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَلِكُلِّ مَلَكٍ حِمًى، وَحِمَى اللهِ الْحَرَامُ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جو ان میں پڑ گیا وہ گناہ میں مبتلا ہونے کے قریب ہے، اور جو ان سے بچ گیا اس نے اپنے دین کو زیادہ محفوظ رکھا، جیسے کوئی شخص کسی چراگاہ کے کنارے اپنے جانور چرائے تو قریب ہے کہ وہ اس میں پڑ جائے، اور ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔“