حدیث نمبر: 10769
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي رَجُلٍ مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَبَانَتْ، ثُمَّ إِنَّهُمَا عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ، هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

ابوحسن، بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے بارے میں مسئلہ پوچھا جس کے نکاح میں ایک لونڈی تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دے کر جدا کر دیا، پھر بعد میں دونوں آزاد ہو گئے، کیا اس شخص کے لیے اس سے دوبارہ نکاح کا پیغام دینا جائز ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10769
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 330، حدیث 10815