المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو حسن مولى بني نوفل عن ابن عباس باب: ابوحسن، بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10767
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمَا أُعْتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ، هَلْ يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: نَعَمْ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَترجمہ
ابوحسن، بنو نوفل کے آزاد کردہ غلام، بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک غلام کے بارے میں مسئلہ پوچھا جس کے نکاح میں ایک لونڈی تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دے دیں، پھر بعد میں دونوں آزاد ہو گئے، کیا اس شخص کے لیے اس سے دوبارہ نکاح کا پیغام دینا جائز ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں، رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔