المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن يسار عن ابن عباس باب: سلیمان بن یسار کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَرَأَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: أَتَدْرِي بُنَيَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِمَّاذَا أَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: تَوَضَّأْتُ مِنْ أَثْوَارِ أَقِطٍ أَكَلْتُهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، أَشْهَدُ لَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ لَحْمٍ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ. قَالَ: وَكَانَ سُلَيْمَانُ حَاضِرًا ذَلِكَ مِنْهُمَاسلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، اور (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے ابن عباس! کیا تم جانتے ہو میں کس وجہ سے وضو کر رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں نے پنیر کے چند ٹکڑے کھائے تھے اس لیے وضو کیا۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ تم کس وجہ سے وضو کرتے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے دستی کا گوشت کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں: اور سلیمان اس وقت دونوں کے پاس موجود تھے۔