حدیث نمبر: 10684
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ جَعْفَرُ بْنُ سُنَيْدِ بْنِ دَاوُدَ، ثنا أَبِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْهَبْ يَا أَبَا رَافِعٍ - لِبَوَّابِهِ - إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقِيلَ لَهُ: لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ، وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا يَفْعَلُ مُعَذَّبًا، لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعِينَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ؛ إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ {وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ} [آل عمران: ١٨٧] إِلَى قَوْلِهِ {لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا} [آل عمران: ١٨٨] ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ، فَحَسَدُوهُ فَكَتَمُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ، فَفَرِحُوا وَخَرَجُوا وَقَدْ أَرَوْهُ أَنَّهُمْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ، وَاسْتَحْمَدُوا إِلَيْهِ بِذَلِكَ، وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ عَمَّا سَأَلَهُمْ
ترجمہ

مروان نے اپنے دربان ابورافع سے کہا: ابن عباس کے پاس جاؤ، تو ان سے کہا گیا: اگر ہم میں سے ہر شخص کو جو ملا اس پر خوش ہونا، اور جو نہیں کیا اس پر تعریف چاہنا عذاب کا باعث ہو، تو ہم سب ہی عذاب میں پڑ جائیں گے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہیں اس آیت سے کیا سروکار؛ یہ تو اہلِ کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور جب اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کرو گے“ [سورۃ آل عمران: 187] سے لے کر ”ہرگز گمان نہ کرو کہ وہ لوگ جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور جو انہوں نے نہیں کیا اس پر تعریف چاہتے ہیں“ [سورۃ آل عمران: 188] تک۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے ان (اہلِ کتاب) سے ایک بات پوچھی تو انہوں نے حسد کی وجہ سے وہ بات چھپا لی اور اس کے بجائے کوئی اور بات بتا دی، تو وہ خوش ہو کر نکلے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو یہ باور کرا دیا کہ انہوں نے وہی بات بتائی جو آپ ﷺ نے پوچھی تھی، اور اس پر آپ ﷺ سے تعریف بھی چاہی، اور جو انہوں نے اصل بات چھپا کر کیا اس پر بھی خوش ہوئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10684
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 300، حدیث 10730